بے حسی کی گونج میں ضمیر کی جنگاری (دوسرا حصہ)

مغرب کی نماز پڑھ کر اسلم سیدھا گھر آگیا۔ بڑھتی ہوئی سردی اور گہری ہوتی دھند نے اسے جلد گھر کی پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ جیسے ہی اس کا موبائل وائی فائی سے جڑا، واٹس ایپ کے نوٹیفیکیشنز کی ایک قطار لگ گئی۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ میسج کھولا، یہ اسی نمبر سے جواب تھا جس پر اس نے دوپہر کو رابطہ کیا تھا۔
"وعلیکم السلام! اپنی سی وی (CV) فوری طور پر اس ای میل پر بھیجیں۔ ہمارا آفس ’ڈولفن مال‘ کے سامنے، المالک روڈ پر فلیٹ نمبر 4 میں واقع ہے۔ کل صبح 10 بجے انٹرویو کے لیے عمران صاحب سے رابطہ کریں۔ کوشش کریں کہ لنچ بریک سے پہلے پہنچ جائیں۔ نیک تمنائیں! — ویژنری ٹیک مارکیٹنگ”
پیغام پڑھتے ہی اسلم کی آنکھوں میں امید کی چمک جاگ اٹھی۔ کمپنی کا نام کتنا متاثر کن تھا! اسے لگا جیسے برسوں کی تگ و دو کے بعد بالآخر تقدیر نے اس کے لیے کوئی صحیح دروازہ کھولا ہے۔ اس نے فوراً الماری سے وہ کپڑے نکالے جو وہ خاص انٹرویوز کے لیے رکھتا تھا اور انہیں نہایت احتیاط سے استری کرنے لگا۔
عشا کی اذان فضا میں گونجی تو وہ وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑا۔ باہر سناٹا اور سردی تھی، مگر اسلم کا ذہن "ویژنری ٹیک” کے خیالات سے گرم تھا۔ وہ مسجد کے ستون سے ٹیک لگائے دعا مانگ رہا تھا: "یا اللہ! بس اس بار کام بن جائے، اب مزید بے روزگاری کا بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔” اسے خبر نہ تھی کہ جس ‘روشن مستقبل’ کی وہ دعا مانگ رہا ہے، اس کی بنیادیں شاید دوسروں کی زندگیوں میں اندھیرے بھرنے کے لیے رکھی گئی ہیں۔
گھر پہنچ کر اس نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور بستر میں لیٹ گیا، مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ بار بار موبائل اسکرین پر اس پتے کو دیکھتا اور دل ہی دل میں تنخواہ اور عہدے کے خواب بنتا۔ اسے یقین تھا کہ اب زندگی بدلنے والی ہے۔

اگلی صبح، جب آسمان کی سیاہی ابھی پوری طرح چھٹی نہ تھی، اسلم بیدار ہو گیا۔ کچن سے برتنوں کی وہی مانوس آوازیں بتا رہی تھیں کہ ماں آج بھی اس سے پہلے جاگ چکی ہیں۔ جب وہ تیار ہو کر کچن میں داخل ہوا تو ماں اس کے لیے چائے بنا رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں وہی پرانی امید تھی جو ہر نئے انٹرویو پر ان کے چہرے پر سج جاتی تھی۔
"آج میرا بیٹا ناشتہ تو سکون سے کرے۔ روز تو بس ایک نوالہ لے کر بھاگ جاتا ہے،” ماں نے پیار سے ڈانٹتے ہوئے گرم پراٹھا توے پر ڈالا۔ "امی! آج دیر نہیں کر سکتا۔ بہت بڑی کمپنی ہے، نام ہی دیکھ لیں کتنا شاندار ہے ’ویژنری ٹیک‘،” اسلم نے جوش سے جواب دیا اور جلدی جلدی ناشتہ ختم کر کے گھر سے نکل گیا۔
اسلم وقت سے پہلے ہی المالک روڈ پر موجود تھا۔ عمارت باہر سے تو پرانی اور بوسیدہ تھی، مگر چوتھے فلور پر واقع دفتر کا منظر بالکل جدا تھا۔ شیشے کے چمکدار دروازے، دیواروں پر جدید وال پیپرز اور کمپیوٹرز پر جھکے مستعد نوجوانوں کو دیکھ کر اسلم مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
"جی، میں عمران صاحب سے ملنے آیا ہوں،” اسلم نے استقبالیہ پر بیٹھی لڑکی سے دھیمے لہجے میں کہا۔ لڑکی نے ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، "آپ کا نام؟ اور کیا آپ کی کوئی اپوائنٹمنٹ ہے؟” "میرا نام اسلم ہے۔ مجھے جاب کے انٹرویو کے لیے وقت دیا گیا تھا،” اسلم نے اپنا مقصدِ آمد بیان کیا۔ "ٹھیک ہے، آپ وہاں بیٹھ کر انتظار کیجیے،” لڑکی نے سامنے رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اس نے انٹرکام اٹھایا اور دوسری طرف کسی کو اسلم کی آمد کی اطلاع دی۔ چند لمحوں بعد، فون کان سے لگائے ہوئے ہی اس نے اسلم کو اشارہ کیا، "جی، آپ سامنے والے کیبن میں چلے جائیں۔”
اندر ایک پینتیس چالیس سالہ شخص، جس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی عیارانہ چمک تھی، بڑے سے لیپ ٹاپ کے پیچھے بیٹھا تھا۔ یہ عمران صاحب تھے۔ "آئیے اسلم صاحب! ہمیں آپ جیسے ہی باصلاحیت نوجوانوں کی تلاش رہتی ہے،” عمران صاحب نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ "ہمارا کام بہت سادہ ہے، ہم بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ڈیٹا مینجمنٹ کرتے ہیں۔ آپ کو ایک ماہانہ ٹاسک دیا جائے گا، جس میں کسٹمرز کی معلومات ہمارے پورٹل پر اپڈیٹ کرنی ہوں گی۔ ٹاسک مکمل کرنے پر فکس تنخواہ اور اس سے زیادہ کام پر پرکشش کمیشن ملے گا۔”
اسلم کو یہ کام اتنا آسان لگا کہ اسے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا۔ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ اسے ایک ڈیسک دے دی گئی اور ایک لاگ ان آئی ڈی تھما دی گئی۔ جیسے ہی اس نے پہلا فارم کھولا، اس کے سامنے ایک عمر رسیدہ شہری کا نام، فون نمبر اور پتہ تھا۔
اسلم نے سوچا کہ شاید یہ کسی انشورنس کمپنی کا ڈیٹا ہے، مگر وہ اس ہولناک حقیقت سے بے خبر تھا کہ وہ ایک ایسے جال کا حصہ بن چکا ہے جہاں لوگوں کی نجی معلومات (Private Data) کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عمران صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: "شروع کرو اسلم! جتنا زیادہ ڈیٹا اپڈیٹ کرو گے، اتنا زیادہ کمیشن ملے گا۔”
اسلم کے ہاتھ کی بورڈ پر چلنے لگے، مگر اس کے ضمیر کی وہ چنگاری جو ابھی پوری طرح بجھی نہیں تھی، شاید کسی آنے والے طوفان کا پتہ دے رہی تھی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔