سانحہ گل پلازہ: وہ آخری پُررونق شام

آج بھی معمول کے مطابق زندگی کی چمک دمک اپنے جوبن پر تھی۔ کراچی کی سب سے مصروف شاہراہ، ایم اے جناح روڈ پر واقع "گل پلازہ” میں زندگی پوری آب و تاب سے رواں دواں تھی۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور وہ بھی ہفتے کا دن، جو کہ ویک اینڈ کا پہلا دن ہوتا ہے۔ اس دن شہر کی رونقوں اور بازاروں کی چہل پہل میں ایک خاص نکھار آجاتا ہے۔شاپنگ مال کے اندر داخل ہوں تو ایسا لگتا تھا جیسے خوشیوں کا کوئی سیلاب ابل رہا ہو۔ کسی دکان سے قہقہوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، کہیں دکاندار تھکن مٹانے کے لیے اپنے عملے کے ہمراہ وہیں کونے میں بیٹھ کر لنچ کر رہے تھے، تو کہیں کوئی سیلز مین اپنی پراڈکٹ کو گاہک کے سامنے اتنی مہارت سے پیش کر رہا تھا جیسے اگر آج یہ چیز نہ خریدی گئی تو گاہک زندگی بھر کے خسارے میں رہے گا۔
کہیں گاہک کپڑوں کو الٹ پلٹ کر، ریشم اور سوتی دھاگوں کے معیار کو اپنی پارکھ نظروں سے جانچ رہا تھا۔ دکانوں کے باہر کھڑے لڑکے گزرتے ہوئے گاہکوں کو اپنی دکان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کر رہے تھے۔ کہیں کوئی دکاندار خالی نظروں سے گاہک کے انتظار میں بیٹھا تھا، تو کہیں بھاؤ تاؤ کا وہ شور تھا جو صرف کراچی کے ان بازاروں کا خاصہ ہے۔ غرض یہ کہ زندگی اپنے پورے جوش و خروش کے ساتھ چل رہی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چند لمحوں بعد یہ قہقہے آہوں میں بدلنے والے ہیں۔
اسی بھیڑ میں ام کلثوم اپنی امی، خالہ، بڑی بہن اور اپنی کزن فرحت کے ساتھ شاپنگ میں مصروف تھی۔ فرحت محض کزن نہیں بلکہ اس کی بہترین دوست بھی تھی۔ ام کلثوم کے چہرے کی سرخی اور فرحت کی مسلسل سرگوشیاں یہ بتا رہی تھیں کہ چند ہی دن بعد ام کلثوم دلہن کے روپ میں سجنے والی ہے۔
"یہ لال سوٹ کیسا لگے گا؟” فرحت نے ایک بھاری کام والا جوڑا اس کے کندھے پر رکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا اور پھر کان میں سرگوشی کی: "دیکھ لینا! دولہا بھائی تمہیں اس میں دیکھیں گے تو بے ہوش ہی ہو جائیں گے۔” ام کلثوم کے گالوں پر حیا کی لالی چھا گئی اور وہ نظریں جھکا کر مسکرانے لگی۔ اس کے خواب اس شاپنگ مال کی روشنیوں سے زیادہ روشن تھے۔
وقت تپتی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا تھا۔ گھڑی کی سوئیاں آج نہ جانے کیوں معمول سے زیادہ تیز چل رہی تھیں۔ عصر سے مغرب ہوگئی، لیکن ام کلثوم کی خریداری کی فہرست ابھی ادھوری تھی۔ ابھی تک بس نام کی ہی خریداری ہوئی تھی کہ اسی دوران مال کے صدر دروازے سے شہزاد داخل ہوا۔ شہزاد کے ساتھ اس کی اہلیہ اور دو بچے، گیارہ سالہ عمر اور آٹھ سالہ سارہ بھی تھے۔ شہزاد اور اس کی اہلیہ کی نظریں بچوں کے کپڑوں کے بجائے ان ننھے منے ملبوسات کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اس ننھے مہمان کے لیے تھے جس کی آمد چند دنوں بعد متوقع تھی۔
وہ دونوں ایک گارمنٹس کی دکان میں داخل ہوئے۔ شہزاد کی اہلیہ نے ایک نہایت چھوٹا اور نرم ملائم سوٹ ہاتھ میں لیا اور دکاندار سے اس کے دام پوچھے، اس کی آنکھوں میں آنے والے بچے کے لیے ہزاروں ارمان تھے۔ اب عشاء کا وقت ہو چلا تھا، لیکن شاپنگ مال کے اندر نہ تو رش کم ہوا تھا اور نہ ہی ان دونوں خاندانوں کی خریداری مکمل ہوئی تھی۔ رات کے نو بجے، پھر ساڑھے نو بجے، بازار اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں تھا۔ دکانوں میں روشن بلبوں کی چکا چوند تھی اور ہر طرف زندگی کی گہما گہمی تھی۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ رات کے دس بجتے ہی یہاں آگ کا وہ ہولناک رقص شروع ہونے والا ہے جو سینکڑوں خوابوں کو خاکستر کر دے گا اور گل پلازہ کی یہ چمک دمک ہمیشہ کے لیے ایک دردناک یاد بن جائے گی۔

پھر نہ جانے کس کی نظر کھا گئی کہ ہنستی بستی بستی اچانک جہنم کا نمونہ بننے لگی۔ رات دس بجے کے قریب مال کے گراونڈ فلور سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ شروع میں کسی نے اس پر خاص توجہ نہ دی؛ کسی نے سمجھا شاید یہ کوئی معمولی سی شارٹ سرکٹ کی آگ ہے جو ابھی بجھ جائے گی، تو کسی نے سوچا کہ آگ تو صرف ایک دکان تک محدود ہے، فائر فائٹرز آئیں گے اور منٹوں میں قابو پا لیں گے۔
پہلی منزل پر جب یہ خبر پہنچی کہ نیچے آگ لگ گئی ہے، تو وہاں بھی لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا۔ دکانداروں اور گاہکوں کا خیال تھا کہ شعلے نیچے کی حد تک ہی رہیں گے اور اوپر آتے آتے بجھ جائیں گے، لہٰذا ہر کوئی اپنے کام میں مصروف رہا۔ کسی کو اس ہولناک حقیقت کا ادراک نہ تھا کہ کنکریٹ کی یہ بلند و بالا عمارت چند ہی لمحوں میں تندور بننے والی ہے۔ غرض ہر کوئی اسی خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ یہ آگ ان تک نہیں پہنچے گی۔
دوسری منزل پر موجود ام کلثوم اور اس کے گھر والے ابھی خریداری میں مگن تھے۔ ان کے ذہن میں ایک ہی دھن تھی کہ جہیز کا جو سامان باقی رہ گیا ہے، اسے بھی دیکھتے جائیں تاکہ بار بار کے چکروں سے نجات ملے۔ ام کلثوم اپنے لال جوڑے کو دیکھ کر مستقبل کے سپنے بن رہی تھی، اسے کیا معلوم تھا کہ یہ آگ صرف نیچے والوں کے لیے نہیں بلکہ تھوڑی ہی دیر میں سب کچھ بھسم کرنے والی ہے۔ وہ سامان جو اس نے بڑے ارمانوں سے جمع کیا تھا، وہ چند لمحوں بعد راکھ کا ڈھیر بننے والا تھا۔
اسی دوران شہزاد اور اس کی اہلیہ کی حالت غیر ہونے لگی۔ دم گھٹتے دھوئیں اور بڑھتی ہوئی تپش کی وجہ سے اہلیہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اس کا سانس اکھڑنے لگا اور وہ نڈھال ہو کر ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ شہزاد پریشانی کے عالم میں کبھی اپنے بچوں کو دیکھتا اور کبھی اپنی اہلیہ کو، جو اس وقت دوہری تکلیف میں تھی۔ ننھے مہمان کی آمد کی خوشی اب ایک انجانے خوف میں بدل رہی تھی۔ چاروں طرف سے چیخ و پکار بلند ہونے لگی تھی، کیونکہ اب آگ کی لپٹیں گراونڈ فلور میں چاروں طرف لپکنے لگی پھر دیکھتے دیکھتے اوپر کی منزلوں کی طرف تیزی سے لپک رہی تھیں۔
وہ سیڑھیاں جو تھوڑی دیر پہلے گاہکوں سے بھری ہوئی تھیں، اب وہاں بھگدڑ مچ چکی تھی۔ دھوئیں کے بادل اتنے گہرے ہو گئے تھے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ وہ روشنی جس نے مال کو جگمگا رکھا تھا، اب بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں بدل چکی تھی۔ ام کلثوم، شہزاد اور وہاں موجود سینکڑوں دیگر انسان اب ایک ایسی موت کے سامنے کھڑے تھے جس کا انہوں نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ زندگی کی چمک دمک اب شعلوں کی نذر ہو رہی تھی اور گل پلازہ کی وہ پُر رونق شام ایک قیامت خیز رات میں تبدیل ہو چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گل پلازہ کے باہر کی دنیا کا منظر اندر کی آگ سے زیادہ ہولناک اور روح فرسا تھا۔ عمارت کے باہر انسانی جذبوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا، جہاں امید اور یاس کی جنگ جاری تھی۔ ام کلثوم کے بوڑھے والد اور جوان بھائی ساکت و جامد کھڑے دہکتی ہوئی عمارت کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ وہ پتھرائی ہوئی چمک تھی جو صرف انتہائی کرب میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ آگ کے ان بلند ہوتے شعلوں کو اس موہوم سی امید کے ساتھ تک رہے تھے کہ شاید ابھی کوئی معجزہ ہو جائے، ابھی یہ قہر تھم جائے اور ان کی لاڈلی ام کلثوم ہنستی مسکراتی باہر آ جائے۔
دوسری جانب شہزاد کے والد اور بھائی کی نظریں دیوانہ وار فائر بریگیڈ کے عملے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ شہر کے اتنے بڑے شاپنگ مال میں لگی اس قیامت خیز آگ کو بجھانے کے لیے ان کی نظروں کے سامنے محض ایک گاڑی کھڑی تھی، جو اس دوزخ کے سامنے ایک قطرے کی مانند تھی۔ یہ کتنا بڑا المیہ تھا کہ ہم جس اے آئی (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور پر فخر کرتے ہیں، وہ صرف نمائش اور کھیل تماشوں تک محدود نظر آ رہی تھی۔ جب انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پڑی، تو وہ تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ مال کے اندر موت اپنا خونی رقص کر رہی تھی اور باہر انتظامیہ کی نااہلی کا ماتم تھا۔
آگ کے بلند ہوتے شعلے اب اتنے مہیب ہو چکے تھے کہ شہر کے ہر کونے سے دیکھے جا سکتے تھے، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ بے حسی کی انتہا یہ تھی کہ جب کراچی جل رہا تھا، میئر کراچی اسلام آباد میں ویک اینڈ منانے میں مصروف تھے۔ حکومت کی جانب سے نہ کوئی دادرسی کرنے والا تھا اور نہ ہی اس ہولناکی کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جا رہا تھا۔ غریب عوام اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھ کر بھی بے بس تھے، کوئی ادھر بھاگتا تو کوئی ادھر، لیکن ہر راستہ بند تھا۔
اچانک ہجوم سے ایک دلخراش چیخ بلند ہوئی: "ادھر دیکھو! اوپر کی منزل پر کوئی موبائل کی لائٹ جلا رہا ہے!”
سینکڑوں نظریں ایک پل میں اوپر کی طرف اٹھ گئیں۔ دھوئیں کے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے ایک ننھی سی روشنی زندگی کا اشارہ دے رہی تھی۔ لوگوں کے دل ڈوبنے لگے، لیکن افسوس کہ وہاں نہ جدید آلات تھے اور نہ ہی کسی ادارے کا تربیت یافتہ بندہ جو ان تک پہنچ پاتا۔ اگر کوئی اہلکار نظر بھی آ رہا تھا تو وہ غیر تربیت یافتہ اور وسائل سے محروم تھا۔ تماشائیوں کا ہجوم، چیخ و پکار، اپنوں کی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی نے اس رات کو کراچی کی تاریخ کی سیاہ ترین رات بنا دیا تھا۔ وہ روشنی جو زندگی کی پکار تھی، آہستہ آہستہ دھوئیں کے غبار میں گم ہوتی چلی گئی، ہوتی چلی گئی، ہوتی چلی گئی… اس لمحے امید کی آخری کرن بھی بجھ گئی۔ جب امدادی عملہ آخرکار اس مقام تک پہنچا، تو ایک خوفناک منظر ان کا منتظر تھا۔ کھڑکی کے پاس، اسی پوز میں، ایک کوئلہ نما لاش برآمد ہوئی، جو شاید آخری دم تک باہر کی دنیا کو پکارتی رہی تھی۔ ہائے افسوس! یہ منظر حکومتی بے حسی اور ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
پھر،جیسے جیسے رات کی سیاہی چھٹنے لگی اور صبح کی پو پھوٹنے والی تھی، ایک زور دار دھماکے کی آواز سے عمارت کا اگلا حصہ زمیں بوس ہو گیا۔ یہ آواز صرف کنکریٹ کے گرنے کی نہیں تھی، بلکہ باہر منتظر ام کلثوم اور شہزاد کے عزیز و اقارب کے دلوں کے ٹوٹنے کی آواز تھی۔ اس دھماکے کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں باقی ماندہ امیدوں کے دیے ٹمٹمانے لگے اور بالآخر ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔ ان کے پیارے اب لاشیں نہیں، بلکہ صرف باقیات تھے۔
اب، ام کلثوم اور شہزاد کے پیارے اور ان جیسے سینکڑوں دیگر بدقسمت خاندان ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کی طویل اور کرب ناک لائن میں لگے ہیں، اس ایک موہوم امید کے ساتھ کہ شاید کوئی نشانی مل جائے، کوئی ثبوت مل جائے جو بتا سکے کہ ان کا اپنا اس دنیا سے جا چکا ہے۔ یہ سانحہ صرف ایک عمارت کا جلنا نہیں تھا، یہ نظام کی ناکامی، حکومتی غفلت اور انسانی بے بسی کا ایک ایسا المناک باب ہے، جو کراچی کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ دھبے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔