ناول گردابِ رنگ قسط 2
(نمائش کی قیدی)
شہر کے ایک پسماندہ علاقے میں واقع ایک تنگ و تاریک گلی کے آخری مکان میں، اپنی تاریکی بیان کرنے سے قاصر تھی۔ جہاں دیواروں کی پپڑیاں اکھڑ رہی تھیں اور ہوا میں نمی اور بیماری کی بو جیسے اس نے بسیرا ہی ڈال دیا ہو، زوہا اپنے کمرے کے واحد روشن کونے میں بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے ایک سستا سا رنگ لائٹ اسٹینڈ تھا اور ایک موبائل فون، جو اس کی غربت اور اس کی مصنوعی شہرت کے درمیان واحد پل تھا۔ وہ واحد روشن کونا کیمرے میں ایک چھوٹی سی جنت لگتا تھا۔ نرم روشنی چہرے پر یوں پڑتی جیسے کسی پروفیشنل سیٹ اپ کا حصہ ہو۔ پیچھے کی دیوار سادہ، صاف اور باوقار دکھتی—نہ غربت، نہ تنگی، بس ایک اِیستھیٹک خاموشی۔
اسی کونے میں من پسند زندگی، روشنی مہربان، اور فریم مکمل۔۔۔۔ مداحوں کو لگتا تھا یہ کسی باخبر، خودپر انحصار کرنے والی لڑکی کی دنیا ہے—جہاں محنت اپنا اثر دکھارہی ہو اور زندگی پر گرفت مضبوط ہو۔ انہیں یہ نظر نہیں آتا تھا کہ یہ صرف ایک کونا ہے
"زوہا! ۔۔۔بیٹا۔۔۔ ذرا ادھر تو آنا، میری کمر میں بہت درد ہو رہا ہے۔” ساتھ والے کمرے سے اس کی ماں کی لرزرتی اور کمزور آواز آئی۔
زوہا نے اپنے ہاتھ میں پکڑے لپ اسٹک کے گہرے شیڈ کو زور سے میز پر رکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ اور بے زاری کی لہریں جاگیں۔ "امی! میں نے کہا تھا نہ کہ ابھی میرے کام کا وقت ہوچکا ہے۔ پلیز، تھوڑی دیر خاموش کو گلے لگادیں”
اس نے آئینے میں اپنا عکس کا جائزہ لیا۔ اس کی آنکھوں کے گرد ہلکے تھے جنہیں اس نے کنسیلر کی دبیز تہوں سے چھپانے میں بھرپور کامیابی دکھائی تھی۔ اس نے ایک ریشمی سکارف اپنے سر پر اس طرح لپیٹا کہ وہ مصنوعی دنیا کی کوئین (ماڈرن)بھی لگے اور ‘با حیا’ بھی—یہ وہ تضاد تھا جو اس کے فالورز کا من چاہا تھا ۔
اس نے فون کا بٹن دبایا۔ لائیو سٹریمنگ۔۔۔۔۔۔۔ شروع ہوتے ہی اس کے چہرے پر ایک ایسی چمک آ گئی جو چند لمحے پہلے موجود نہ تھی۔
"ہیلو مائی بیوٹی فل فیملی! کیسی ہے میری یوٹیوب فیملی؟” اس نے آواز میں مصنوعی مٹھاس بھر کر کہا۔ اور نوٹیفکیشنز کی ٹونیں اس کے مداحوں کے دوائسز میں بجنے لگی پھر۔۔۔۔۔۔کمنٹس کی لائنیں جگمگانے لگی:
"زوہا آپ آج بہت پیاری لگ رہی ہے!"
"وہ نیا ڈانس سٹیپ کب دکھائیں گی؟"
"زوہا! آج کیا نیا کرنے والی ہو۔"
"زوہا! تمہاری آواز میں ایک جادوہے۔ "
’زوہا، میں نے آپ کو پانچ ہزار کے گفٹس بھیجے ہیں، میرا نام لیں!‘
زویا کی نظریں ان ‘گفٹس’ پر جمی ہوئی تھیں جو اس کا مقصدِ زندگی تھا۔ یہ گفٹس صرف ڈیجیٹل پھول یا ستارے نہیں تھے، یہ وہ پیسے تھے جن سے اسے اپنی ماں کے ہسپتال کے بل بھرنے تھے اور اس چھوٹے سے دو کمروں کے گھر کا کرایہ دینا تھا۔ لیکن ان پیسوں کی طلب اسے ایک ایسے راستے پر لے جا رہی تھی جہاں واپسی کا نشان مٹتا جا رہا تھا۔
اچانک اس کے فون پر اس کے نجی چیٹ روم پہ ایک میسج جگمگانے لگا ۔ یہ ‘ڈارک نائٹ’ تھا۔ وہ شخص جو پچھلے ایک مہینے سے اسے لاکھوں کے تحائف بھیج چکا تھا لیکن کبھی سامنے نہیں آیا تھا۔
ڈارک نائٹ: "زوہا، تم اس غربت کی چکی میں کب تک پستی رہو گی؟ آج ایان کے پینٹ ہاؤس پر ایک خاص پارٹی ہے۔ وہاں آؤ۔ میں تمہیں وہ سب دوں گا جس کا تم نے صرف خواب دیکھا ہے۔ بس تمہیں وہاں ایک ‘چھوٹا سا کام’ کرنا ہوگا۔”
زوہا کا دل زور سے دھڑکنے لگا ایسے لگ کہ ابھی باہر نکل آئےگا۔ وہ ایان کو جانتی تھی—وہ شہر کا بدنامِ زمانہ رئیس زادہ تھا۔ اس کی پارٹیوں کی کہانیاں سوشل میڈیا کے تاریک گوشوں میں مشہور فلم کی طرح چلتی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں جانا آگ میں کودنے کے مترادف ہے۔
"بیٹا۔۔۔ پانی۔۔۔” ماں کی آواز دوبارہ آئی، اس بار آواز میں نقاہت زیادہ تھی۔
زوہا نے فون کی سکرین کو دیکھا، پھر اپنی ماں کے کمرے کی طرف گئی۔ بددلی سے پانی دیا پھر واپس آکر اپنے پرانے پھٹے ہوئے کپڑوں کی طرف دیکھا۔ اس کے اندر ایک جنگ چھڑ گئی۔ ایک طرف اس کی وہ غیرت تھی جو ابھی پوری طرح مری نہیں تھی، اور دوسری طرف وہ ہوس اور ضرورت تھی جو اسے بے راہ روی کی آخری حدوں تک کھینچ رہی تھی۔ یہ سوچ کر اس نے فون پر ٹائپ کیا: "میں آ رہی ہوں۔ لوکیشن بھیجیں۔”
اس نے فون بند کیا اور الماری سے وہ لباس نکالا جو اس نے پچھلے ہفتے اپنی جمع پونجی سے خریدا تھا— ایک ایسا لباس جسے پہن کر وہ ‘زوہا’ نہیں بلکہ ایک حیا کے پردے کو تار تار کرنے اور ایک ‘پروڈکٹ’ لگنے والی تھی۔
جب وہ کمرے سے نکلی، تو اس کی ماں نے دھندلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ "بیٹا، اتنی رات کو کہاں جا رہی ہو؟”
زوہا نے دوپٹہ درست کیا اور بغیر دیکھے بولی، "رزق کمانے جا رہی ہوں امی۔ تاکہ آپ کے علاج اور دیگر سہولیات کو خریدا جاسکے آپ سو جائیں۔”
وہ گھر سے نکل گئی، ایک ایسے دلدل کی طرف جہاں رزق نہیں بلکہ اپنی روح کا سودا کرنے جا رہی ہے۔ باہر سڑک پر اندھیرا تھا، پر اسٹریٹ لائٹس کی روشنی اس اندھیرے کو کم کرنے کوشش کررہی تھی۔ اسی دوران اس نے رائید بک کروادی تھی۔ کال پہ کال کر رہی تھی کہ کہاں ہے؟ پھر اس کے سامنے ایک کیپ رکی اور ڈرائیونگ سیٹ سے ڈرائیور نے سر باہر نکلتے ہوئے : "آپ ہے مس زوہا؟” ” جی ؟” یہ کہہ کر پیچھے کار کا دروازہ کھولا اورلو کیشن بتاتے ہوئے بیٹھ گئی۔
پھر کار سنسان سڑک پہ دوڑنے لگی ۔ اس کی ویرانی میں چھپا وہ مصنوعی چہرہ ایک بھیانک منظر پیش کر رہا تھا۔ آنکھوں میں مصنوعی چمک کے پیچھے آسودگی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ پیچھے سیٹ پہ بیٹھی موبائل کی اسکرین پہ نظریں تھیں اور ٹائپ کرنے لگی:
ویورز! آج اونلاین آنا مشکل ہے۔ اوکے بائے گڈ نائٹ….. کیونکہ ایان کے پینٹ ہاؤس کی مصنوعی روشنیاں اسے دور سے پکار رہی تھیں۔