پہلا حصہ

سردی کی اس لہر نے شہر کو دھند سے ڈھانپ دیا تھا۔ اسلم کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ دھند اس کی بے روزگاری کی طرح ہے—چھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس کی نظریں سڑک پر چلتے لوگوں کے دھند میں مدھم ہوتے عکس پر تھیں، اور ہر عکس اس کی بے روزگاری پر ایک طنزیہ تیر کی طرح چبھتا محسوس ہوتا۔

"کتنی درخواستیں جمع کروائی ہیں اب تک؟” اس کی ماں سبز چائے کا کپ رکھتے ہوئے بولیں۔

"پتہ نہیں ماں… بس اتنا معلوم ہے کہ پچھلے دو مہینوں سے در بدر ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔ ہر اخبار کا ملازمتوں والا صفحہ جیب میں ہوتا ہے، مگر کسی ایک کا جواب تو دور، منہ تک لگانے کو تیار نہیں۔” اسلم نے کڑوا گھونٹ لیتے ہوئے جواب دیا اور سوچنے لگا:

"ماں کی پنشن چھوٹے بہن بھائیوں کی فیس اور ضروری اخراجات میں ختم ہو جاتی ہے۔ چینی کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اس کے بغیر چائے تو کڑوی ہی ہوگی ۔” ماں نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا، جیسے  اس کے اندر کہیں چھپی امید کی ایک ننھی سی چنگاری تلاش کر رہی ہو۔ 

باہر سڑکیں دھند میں لپٹی تھیں، مگر اسلم کے دل میں ایک اور دھند تھی—بے حسی کی دھند، جو شہر کی روشنیوں کے بیچ میں کبھی چھٹ نہ سکی۔ امتیازی نمبروں سے لبریز یہ دگڑیاں محض کاغذ کے ٹکڑےتھے۔جو بے حسی کی چادر میں لپٹے چہروں کو بے نقاب کررہی ہوں۔

اسی لمحے فلیٹ کے مین گیٹ پر بیل بجی۔ اسلم کے خیالات کا تسلسل ٹوٹا۔ دروازہ کھولا تو سامنے اس کا دوست عثمان کھڑا تھا۔

"السلام علیکم! کیسے ہو؟” عثمان نے اندر آتے ہوئے کہا۔

"وعلیکم السلام… جیسے چھوڑ کر گئے تھے، ویسا ہی ہوں۔” اسلم نے لاک بند کرتے ہوئے جواب دیا۔

"یار! مایوسی گناہ ہے۔ اس سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ امید کی شمع جلائے رکھو۔” عثمان نے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔

"ویسے نیچے فلیٹ کے انکل جاوید تمہارا پوچھ رہے تھے۔ جاب کے بارے میں بھی دریافت کر رہے تھے کہ ملی یا نہیں؟   پیغام دیا ہے کہ ان سے مل لینا۔” یہ بات بتا کر عثمان مسکرا دیا۔ کچھ دیر حال احوال ہوا، اور چائے ختم ہوتے ہی وہ اجازت لے کر چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اسلم بیٹا! نیچے کریانہ اسٹور سے دال لے آؤ، تاکہ رات کے کھانے کا بندوبست ہو جائے۔”  عصر کی نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے اس کی ماں  بولیں۔

"جی امی! ابھی جا رہا ہوں۔”

وہ نیچے اترا تو دھند خاصی چھٹ چکی تھی، مگر سردی کی لہر بدستور موجود تھی۔ یہ سردی اسلم کے لیے نئی نہ تھی؛ پر وہ تو اپنی سوچوں میں منجمد تھا۔ اس کی توجہ کا محور بس ایک ہی تھا—بے روزگاری۔ کریانہ اسٹور سے خریداری کر کے وہ نکلنے ہی والا تھا کہ سامنے جاوید انکل  دکھائی  دیے۔

"السلام علیکم انکل! کیا حال ہے؟” اسلم فورا آگے بڑھا اور سلام کرنے لگا۔

"وعلیکم السلام بیٹا، الحمدللہ سب خیریت ہے۔” انکل جاوید پیسے نکال رہے تھے کہ سیلز مین نے ایک بڑا تھیلا ان کی طرف بڑھایا۔

"انکل! لائیے، میں پکڑ لیتا ہوں۔” اسلم نے آگے بڑھ کر تھیلا تھام لیا۔

"عثمان آپ کا ذکر کر رہا تھا،” اسلم ساتھ چلتے ہوئے بولا۔

"ہاں بیٹا… آج کل بے روزگاری نے نوجوانوں کو اندر سے توڑ دیا ہے۔ ڈگریوں کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔ قابلیت تو جیسے گھاس چڑنے گئی ہو۔۔۔۔بس رشوت اور سفارش کا زور چلتاہے۔ خیر یہ ایک نمبر ہے اس پر رابطہ کر لینا ”   سودا لیتے وقت انکل جاوید کے ہاتھ میں موبائل فون تھا۔ انہیں دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شاید کسی کا وائس میسج سن کر اسے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے فوراً موبائل سے نمبر نکال کر دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

چلتے چلتے ان کے فلیٹ کے سامنےپہنچیں اور  انہوں نے تھیلا واپس لیتے ہوئے کہا:

"آؤ بیٹا، چائے پیتے جاؤ۔” "نہیں انکل، شکریہ۔ امی انتظار کر رہی ہوں گی، اور یہ سودا بھی دینا ہے۔” ہاتھ میں تھیلی پکڑی دکھاتے کہنے لگا۔

"اچھا، بھابھی کو میرا سلام کہنا۔ اور یہ بھی کہنا کہ ماشاء اللہ! اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ ان شاء اللہ بہت جلد اپنے  پیروں پر کھڑے ہوں گے اور گھر کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاؤ گے۔” پھر دروازے کی طرف گئے اور جیسے کچھ یاد آیا ہو، فوراًمڑ کر بولے:

"یہ نمبر  ایک واٹس ایپ گروپ سے ملا تھا۔  پیغام تھا کہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کا موقع—صرف ایک وائس میسج پر۔ رابطہ کر لینا، کیا پتہ کوئی راستہ نکل آئے۔ اور مجھے بھی اطلاع دینا۔ اللہ حافظ!” مصافحہ کر کے انکل جاوید اندر چلے گئے۔

اسلم نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہی نمبر سیو کیا اور وائس میسج بھیج دیا:

"السلام علیکم! آپ کا نمبر ایک گروپ سے  ملا ہے۔ مجھے کام کی سخت ضرورت ہے۔ اور میں کام تلاش کر رہا ہوں۔ براہِ کرم بتائیں، آپ کے پاس کیا کام موجود ہے؟”

میسج بھیج کر وہ فلیٹ میں داخل ہوا۔ تھیلی کچن کی سلیب پر رکھی اور کھڑکی کے سامنے صوفے پر بیٹھ کر شبنم کے قطروں سے بھرے شیشے سے باہر دھندلی دنیا کو دیکھنے لگا اسی دنیا میں اس کے سامنے دوسال پہلے کا پرانا منظر ابھرنے لگا—

والد کے انتقال کو صرف دو ماہ گزرے تھے، اور امی عدّت میں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"بیٹا! یہاں کیا کررہے ہو؟ تمہارے کوچنگ کا ٹائم ہے اور تم یہاں؟”

انکل جاوید گاری پارک کرتے ہوئے اسے دیکھ کر بلند  آواز سے اپنے پاس بلاکر پوچھنے لگے۔

"جی انکل، آج امی  کی طبیعت خراب تھی اس لیے نہیں گیا۔”

"اچھا، چلو خیال رکھنا۔”

ادھر اسلم ادھر ادھر گھوم کر گھر کی طرف نکل گیا۔ جھوٹ بول کر مطمئن تھا کہ جھوٹ پکڑا نہیں جائے گا۔

انکل جاوید اس ام کلثوم بلڈنگ کے اونر ہیں اور اسلم کے والد کے دوست اور گھریلو تعلق بھی۔ والد صاحب کے جانے کے بعد بھی اپنی دوستی نبھاتے رہے اور پڑھائی میں بہت حوصلہ بڑھاتے تھے۔ عید بقرہ عید کے موقع پر بھی اچھی خاصی مدد کر تے تھے۔ 

اسلم گھوم پھر کر گھر آیا تو سلمی آنٹی گھر میں موجود تھیں۔

” الس۔۔۔۔الس۔۔۔۔۔ السلام علیکم آنٹی!” گھر میں داخل ہوتے ہی سلمیٰ انٹی پر نظر پڑتی ہی بوکھلاہٹ سے سلام کرنے لگا۔ 

"وعلیکم السلام بیٹا! تم نے انکل کو بتایا تمہاری ممی کی طبیعت خراب ہے۔ یہاں پہ سب بالکل ٹھیک ہے اور پوچھ رہی تھی کہ کس نے بتایا۔”

آنٹی نے تفصیل سے بتایا اور حیرت بھی ظاہر کی اسلم کے جھوٹ پر۔

"بھابھی آپ کو حالات کا پتہ ہی ہے۔ گھر کا گزارا مشکل سے ہوتاہے تو اسلم کے کوچنگ کی فیس کہاں سے لائیں ۔ اس ماہ کی فیس جمع نہیں کر ائی ہے ۔ اس لیے کوچنگ والوں نے جواب دے دیا۔ ” اسلم کی ماں نے وضاحت  دیتے ہوئے شرمندگی سے کہا ۔ 

” اچھا چلے اللہ بھلائی کا معاملہ آپ لوگوں کے ساتھ کریں ۔ آپ اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ مجھے ان کے انکل نے ابھی بتایا اور کہا کہ جاکر اوپر جا کر دیکھ لو زیادہ طبیعت تو خراب نہیں ہے ۔ ” انٹی سلمی نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہنے لگی۔ 

اسلم کی امی تشکر امیز نگاہوں سے دیکھا اورسلمیٰ انٹی کو روکتے ہوئے کہنی لگی: ” نہیں بھابھی !کھانا کھا کر جائیے گا۔ آپ کے آنے سے یا بھائی صاحب کے پوچھنے سے ایک ڈھارس بندھی رہتی ہے ۔ بس میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کیجیے گا۔ شاید آپ پریشان نہ ہو بس اسلم نےاس لیے حقیقت نہیں بتائی۔ پہلے سے ہی آپ کے احسانات ہمارے اوپر بہت ہیں۔ "

"نہیں نہیں ! پھر کبھی ابھی آپ کے بھائی صاحب جاکر بتانا ہے۔ آپ کی عدت کا معاملہ نہ ہوتا ضرور اوپر آجاتے۔” انٹی سلمیٰ دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے وضاحت سے بتانے لگی ۔ 

” اچھا! بھابھی آتے رہییے گا اور بھائی صاحب کو میری طرف سے شکریہ بول دینا۔ "اسلم کی ماں دروازے کے پاس آئی اور ان کو رخصت کرتے ہوئے کہنے لگی۔ 

دوسرے دن ۔۔۔۔۔۔۔

ٹٹ ٹٹ ٹٹ۔۔۔ٹوٹو۔۔۔۔۔ٹٹ ٹٹ ٹٹ۔۔۔۔۔

” السلام علیکم”  اسلم نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا ۔ وہ  دوسرے دن عصر کی نماز پڑھ کر نکل رہا تھا تو یہ کال آگئی ۔ 

” وعلیکم السلام ! ہم اسد کوچنگ سینٹر سے بات کر رہے ہیں۔ جی ہماری بات اسٹودنٹ اسلم سے ہورہی ہے ۔” دوسری طرف سے   پیشہ وارانہ  انداز سے پوچھا۔

جی میں اسلم ہی بول رہاہوں۔ جی بتائیں کیا کام ہے ۔ اسلم نے تجسس بھرے لہجے میں  سوال کیا۔ 

جی! آپ کی فیس جمع ہوگئی ہے ۔ آپ آج سے کوچنگ آجائیں ۔ سامنے والے  کی گفتگو نے اس کو مزید حیرت میں مبتلا کر دیا۔بس اس نےاتناہی جواب دیا جی اچھا!

"خوشی کے مارے اس کے قدم تیزی سے اٹھ رہے تھے تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ کر امی کو یہ خوشخبری سنا سکے۔ وہ دل ہی دل میں سمجھ گیا تھا کہ یہ فیس کس نے جمع کروائی ہوگی، کیونکہ اس کوچنگ سینٹر میں ایک ٹیچر انکل جاوید کے بہت گہرے دوست تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اللہ اکبر ۔۔۔۔۔اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔۔۔”

مغرب کی اذان جب اسلم کی سامعتوں سے ٹکڑائی تو پرانا منظر غائب ہوگیا۔۔۔۔ابھی بھی اس کی نظریں شیشے پر تھی اور اس پار دنیا مزید  دھندلاگئی تھی۔ اس نے مغرب کی نماز کی تیاری شروع کی۔ گھرسے وضو کر کے نکلاتو وضو کی برکت  سے ذہنی سکون میسر آیا تو دل میں سوچنے لگا:  "بے حسی کی راکھ پہ ضمیر کی جنگاری ابھی بھی جل رہی ہے اور دنیا میں وہ انکل جاوید کی صورت میں پھیلی ہوئی ہے۔” چہرے پہ مسکراہٹ سجائی ۔ سردی کے دوچند احساس  سے دونوں ہتھیلیاں بغلوں میں دبائیں اورتیزی سے  مسجد کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔