قسط نمبر 1

مصنوعی روشنیوں کا حصار

رات ایک بجے تک اس جگہ کی ساری رونقیں دم توڑ چکی تھیں۔ لیکن اوپر، پچاس ویں منزل کے پینٹ ہاؤس سے نظر آتا تھا کہ شہر اب بھی کسی بکھرے ہار کی طرح روشنیوں میں سانس لے رہا ہے۔ مگر اس چمکتی ہوئی دنیا کے درمیان، پینٹ ہاؤس کے اندر ایک ایسا خلا پھیلا ہوا تھا جو روشنیوں سے کوسوں دور، تاریک اور حبس زدہ کیفیت میں قید تھا۔ ایان کے ہاتھ سے پھسلتا ہوا کرسٹل گلاس لمحوں میں ٹوٹ کر کرچیوں کی صورت زمین پر بکھر گیا، جیسے اس کی اپنی ذات کہیں اندر ہی اندر شکستہ ہو چکی ہو۔ شفاف مائع کی چند بوندیں اس کے سفید ریشمی لباس پر پھیل گئیں، مگر اس کی آنکھوں میں نہ ناگواری تھی، نہ احساس۔ چاروں طرف موسیقی کا شور کسی طوفان کی مانند اس پر حملہ آور تھا، اور ہال میں معلق دھوئیں کے بادل—جو عام سگریٹ کے نہیں بلکہ مہنگی اور جدید منشیات کے تھے—اس دنیا کی نمائندگی کر رہے تھے جہاں زوال کو شان اور نشے کو پہچان سمجھا جاتا ہے۔”ایان! اف! تمہاری خاموشی پتہ نہیں کس غار میں جا چھپی ہے؟”حارث نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں—ایسا ہیجان جیسے ٹمٹماتے تاروں میں دوڑتا ہو، اور جس کے نزدیک زندگی محض اسکرین پر چلنے والی ایک فلم تھی۔”حارث! کبھی تمہارے دل کے کسی کونے میں یہ خیال آیا کہ جو ہم کر رہے ہیں… وہ بے معنی ہے؟”ایان نے نظریں اٹھا کر آہستگی سے پوچھا۔حارث زور سے ہنسا۔ اس کی ہنسی میں وہی کھوکھلا پن تھا جو اُن لوگوں میں ہوتا ہے جن کے لیے اخلاقیات بس بے معنی لفظ اور رسمیں ایک ایسی زنجیر ہیں، جن میں قید ہو کر انسان کھو جاتا ہے۔”معنی؟ ایان بھائی، تم کب سے ارسطو بن گئے؟تمہارے لیے معنی یہ ہے کہ اس وقت تمہاری لائیو اسٹریمنگ پر تین لاکھ لوگ موجود ہیں — وہ تمہاری زندگی کو ایک خواب کی طرح دیکھ رہے ہیں، اور اس کے ہر لمحے کو جینا چاہتے ہیں۔ تمہاری یہ عیاشی ہی ان کا خواب ہے۔”ایان نے مڑ کر بڑے مانیٹر کی طرف دیکھا۔ کمنٹس بجلی کی رفتار سے بہہ رہے تھے:”ایان بھائی، کچھ نیا کرو!””آج کوئی ایسا دھماکا ہو کہ دنیا یاد رکھے!””پیسہ پھینکو، تماشہ دیکھو!”وہ اس ورچوئل دنیا کو ہی اصل سمجھ کر اس میں کھوتا جا رہا تھا، اور رہی سہی کسر حارث کی چکنی چپڑی باتوں نے پوری کر دی۔”دیکھ رہے ہو؟” حارث نے فون اس کے چہرے کے قریب کیا۔”یہ لوگ تمہارے خون کے نہیں، تمہاری بے راہ روی کے پیاسے ہیں۔ تم جتنا گرتے ہو، یہ اتنا ہی تالیاں بجاتے ہیں۔””اور اگر میں گرتے گرتے ختم ہو گیا تو؟”ایان نے تلخی سے مسکرا کر کہا۔”تو یہ لوگ کسی نئے تماشے کی تلاش میں نکل جائیں گے،”حارث نے لاپروائی سے شانے اچکائے۔”لیکن جب تک تمہارے پاس پیسہ ہے اور اندر شرارت باقی ہے، تم اس ڈیجیٹل دنیا کے بادشاہ ہو۔ چلو — اب باہر آؤ۔ کیمرہ آن ہے۔ زوہا بھی آن لائن آ چکی ہے۔”ایان اٹھا تو قدم لڑکھڑانے لگے، مگر چہرے پر وہی زبردستی سجائی ہوئی مصنوعی فاتحانہ مسکراہٹ تھی — وہی مسکراہٹ جو اس نے دنیا کو دکھانے کے لیے سیکھ لی تھی۔ وہ ہال کے عین درمیان آ کر رکا، جہاں لیزر کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑ کر اسے کسی قدیم یونانی اساطیری کردار کی طرح بنا رہی تھیں—ایسا دیوتا جو اپنی ہی بھڑکی ہوئی آگ میں جل رہا ہو۔”ہیلو ویورز!” ایان نے کیمرے کی طرف دیکھ کر بلند آواز میں کہا۔”آج کی رات وہ ہے جس میں ہم وہ سب حدیں پار کریں گے جن کا خواب تم صرف آنکھوں میں سجاتے ہو۔ تیار ہو جاؤ—کیونکہ آج شرافت کا کفن سلے گا اور گناہ کا جشن منایا جائے گا۔”اس کے الفاظ کے ساتھ ہی مصنوعی دنیا کے لوگوں کے کمنٹس کا طوفان امڈ آیا—تالیاں، ایموجیز اور حوصلہ افزائی کے پیغامات۔ اخلاقیات سے خالی اس ہجوم میں کسی نے یہ تک نہ پوچھا کہ ان “حدوں” سے مراد کیا ہے، اور نہ یہ سوچا کہ اس جشن کی قیمت کیا پڑے گی۔ مگر ایان کے ذہن کے کسی کونے میں ایک منصوبے کی کچی دیواریں خاموشی سے چن رہی تھیں۔ حارث کے آنے سے پہلے وہ واٹس ایپ پر ایک دوست کا وائس میسج سن چکا تھا—اسی پیغام کے ایک حصے کی پلاننک کرنے لگا اب اس کے ذہن میں گھومنے لگا تھا۔

اوپر تک سکرول کریں۔