عمر صوفے پر بیٹھا ٹیبلٹ پر گیم کھیل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور وہ گرد و پیش سے بالکل بے خبر تھا۔ اس کی امی کو ٹیبل پر کافی کا کپ رکھے ہوئے بیس منٹ گزر چکے تھے۔ ابتدا میں اس کپ سے بھاپ اٹھ رہی تھی—ننھے بادلوں کی طرح اوپر کو لپکتی ہوئی—مگر اب وہ بھاپ ہچکچا کر رک گئی تھی۔ کپ کے کناروں پر ہلکی سی نمی جم گئی تھی، جیسے کسی نے خاموشی سے وقت کا نشان چھوڑ دیا ہو۔
کافی کی سطح پہلے ہلکی سی لہروں سے کانپتی رہی، پھر آہستہ آہستہ بالکل ساکن ہو گئی—جیسے اس میں چھپا ہر ذائقہ نیند میں چلا گیا ہو۔ اس کی خوشبو بھی گہری اور گرم سے بدل کر مدھم سی ہو چکی تھی، جو بس یہ یاد دلا رہی تھی کہ یہ کبھی تازہ تھی۔
اتنے میں دروازہ بند ہونے کی ہلکی سی آواز گھر میں گونجی، مگر صوفے پر بیٹھا عمر جیسے کسی اور ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ اسکرین کی چمک اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، آنکھیں سکڑی ہوئی تھیں، انگلیاں تیزی سے حرکت میں—نہ سلام کی پروا، نہ آمنے سامنے کھڑے والد صاحب کا احساس۔
“عمر بیٹا! دیکھو باہر کتنا پیارا موسم ہے، چلو پارک چلتے ہیں، تھوڑی دیر فٹ بال کھیلتے ہیں۔”
احمد صاحب صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
“بس پاپا، دو منٹ!”
عمر نے نظریں اوپر اٹھائے بغیر کہا۔
“یہ لیول ختم ہونے والا ہے۔ اگر ابھی گیا تو میری رینکنگ گر جائے گی، پھر دوبارہ کھیلنا پڑے گا۔”
احمد صاحب کمرے میں چلے گئے تاکہ فریش ہو کر عمر کے ساتھ جا سکیں، مگر کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو فرصت مانگتے ہیں۔ یوں کام نمٹاتے نمٹاتے ایک گھنٹہ گزر گیا۔
جب وہ دوبارہ لاؤنج میں آئے تو عمر کی حالت وہی تھی۔ اسکرین کے نشے میں دھت، سامنے کافی کا کپ ویسے ہی رکھا تھا جیسے چھوڑ کر گئے تھے۔
“عمر بیٹا، ابھی تک دو منٹ نہیں ہوئے؟”
احمد صاحب اس کے سامنے کھڑے ہو کر بولے۔
“بس بابا… دو منٹ…”
عمر نے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
احمد صاحب قریب بیٹھ گئے۔
“یہ ‘دو منٹ’ پچھلے دو گھنٹوں سے چل رہے ہیں۔ ظلم تو دیکھو، کافی کا کپ بھی جھیل رہا ہے۔”
“اوہ! بابا، آئی ایم سوری… مجھے پتا ہی نہیں چلا۔”
عمر نے کپ کی طرف دیکھ کر کہا، مگر اگلے ہی لمحے پھر اسکرین میں گم ہو گیا۔
“کیا تمہیں پتا ہے تمہارے پسندیدہ فٹ بالر، میسی یا رونالڈو، اس وقت کیا کر رہے ہوں گے؟”
احمد صاحب نرمی سے بولے۔
“وہ اسکرین پر انگلیاں نہیں چلا رہے ہوں گے، بلکہ میدان میں پسینہ بہا رہے ہوں گے۔”
“بابا!” عمر جھنجھلا اٹھا،
“یہ ڈیجیٹل دنیا ہے۔ اب سب کچھ یہیں ہوتا ہے۔ مجھے یہاں زیادہ مزہ آتا ہے۔”
“بیٹا، مزہ تو قید میں بھی آتا ہے اگر قیدی کو رنگین کھلونے دے دیے جائیں، مگر وہ رہتی قید ہی ہے۔”
یہ آواز دادا جان کی تھی، جو کونے میں بیٹھے کسی میگزین کے اوراق پلٹ رہے تھے۔ بیٹے اور پوتے کی گفتگو سن کر انہوں نے مداخلت ضروری سمجھی۔
عمر نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر حیرت سے کہا،
“دادا جان! میں قید میں کیسے ہوں؟ میں تو اپنی مرضی سے جو چاہوں دیکھ سکتا ہوں۔”
“یہی تو دھوکا ہے،” دادا جان بولے۔
“یہ مشینیں تمہیں آزادی کا احساس دلاتی ہیں، مگر دراصل تمہارا وقت، تمہاری سوچ اور تمہاری صحت ان کی مٹھی میں ہوتی ہے۔ کیا تمہیں یاد ہے آخری بار تم نے دوستوں کے ساتھ چھپن چھپائی کب کھیلی تھی؟”
عمر سوچ میں پڑ گیا۔
“شاید… پچھلے مہینے…”
احمد صاحب نے بات سنبھالی۔
“عمر! ہم تمہیں ان چیزوں سے مکمل منع نہیں کر رہے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ تم اس ڈیجیٹل دنیا کے غلام نہ بنو، بلکہ اسے ضرورت کے تحت استعمال کرو۔”
“غلام؟ کیا میں واقعی غلام بن رہا ہوں؟” عمر نے دھیرے سے پوچھا۔
“ہاں!” احمد صاحب بولے،
“جب تم اپنی نیند، اپنی پڑھائی اور اپنے گھر والوں سے زیادہ اسکرین کو اہمیت دینے لگو، تو سمجھ لو کہ ریموٹ تمہارے ہاتھ میں نہیں، اس مشین کے ہاتھ میں ہے۔”
عمر نے آہستہ سے ٹیبلٹ بند کر دیا۔
“مجھے سمجھ آ رہا ہے بابا۔ اکثر گیم کھیلتے ہوئے مجھے پیاس لگتی ہے، مگر میں اٹھ نہیں پاتا۔ یہ واقعی غلامی ہے۔ جیسے ابھی… کافی کی طلب تھی، ماما رکھ کر چلی گئیں، اور میں اتنا مقید تھا کہ ہوش ہی نہ رہا کب کافی ٹھنڈی ہو گئی۔”
دادا جان مسکرا دیے۔
“شاباش میرے بچے! چلو اب باہر چلتے ہیں۔ آج میں تمہیں وہ کھیل سکھاؤں گا جو میں تمہارے پاپا کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔”
“واقعی؟”
عمر جوش سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“پاپا! کیا ہم روزانہ صرف ایک گھنٹہ سکرین استعمال کرنے کا اصول بنا سکتے ہیں؟”
“بالکل!” احمد صاحب نے خوشی سے کہا۔
“یہی تو زندگی کا سبق ہے، بیٹا—زندگی سکرین کے اندر نہیں، سکرین کے باہر ہے۔”