بے حسی کی گونچ میں ضمیر کی جنگاری

سردی کی اس لہر نے شہر کو دھند سے ڈھانپ دیا تھا۔ اسلم کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ دھند اس کی بے روزگاری کی مانند ہے—چھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس کی نظریں سامنے سڑک پر چلتے لوگوں کے دھند میں مدھم ہوتے عکس پر تھیں، اور ہر عکس اس کی بے روزگاری پر ایک طنزیہ تیر کی طرح چبھتا محسوس ہوتا۔

“کتنی درخواستیں جمع کروائی ہیں اب تک؟”
اس کی ماں سبز چائے کا کپ رکھتے ہوئے بولی۔

“پتہ نہیں ماں… بس اتنا معلوم ہے کہ پچھلے دو مہینوں سے در بدر ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔ ہر اخبار کا ملازمتوں والا صفحہ جیب میں ہوتا ہے، مگر کسی ایک کا جواب تو دور، منہ تک لگانے کو تیار نہیں۔”

اسلم نے کڑوا گھونٹ لیتے ہوئے جواب دیا اور سوچنے لگا:
“ماں کی پنشن چھوٹے بہن بھائیوں کی فیس اور ضروری اخراجات میں ختم ہو جاتی ہے۔ چینی کے بغیر چائے تو کڑوی ہوگی ہی، مگر دل بھی کچھ ایسا ہی کڑوا ہو چکا ہے۔”

ماں نے خاموشی سے اسے دیکھا، جیسے اس کی نگاہ اس کے اندر کہیں چھپی امید کی ایک ننھی سی چنگاری تلاش کر رہی ہو۔ باہر سڑکیں دھند میں لپٹی تھیں، مگر اسلم کے دل میں ایک اور دھند تھی—بے حسی کی دھند، جو شہر کی روشنیوں کے بیچ بھی کبھی چھٹ نہ سکی۔

اسی لمحے فلیٹ کے مین گیٹ پر بیل بجی۔ اسلم کے خیالات کا تسلسل ٹوٹا۔ دروازہ کھولا تو سامنے اس کا دوست عثمان کھڑا تھا۔

“السلام علیکم! کیسے ہو؟”
عثمان نے اندر آتے ہوئے کہا۔

“وعلیکم السلام… جیسے چھوڑ کر گئے تھے، ویسا ہی ہوں۔”
اسلم نے لاک بند کرتے ہوئے جواب دیا۔

“یار! مایوسی گناہ ہے۔ اس سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ امید کی شمع جلائے رکھو۔”
عثمان نے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔

“ویسے نیچے فلیٹ کے انکل جاوید تمہارا پوچھ رہے تھے۔ جاب کے بارے میں بھی دریافت کر رہے تھے کہ ملی یا نہیں۔ پیغام دیا ہے کہ ان سے مل لینا۔”

یہ بات بتا کر عثمان مسکرا دیا۔ کچھ دیر حال احوال ہوا، اور چائے ختم ہوتے ہی وہ اجازت لے کر چلا گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔