شام کی سرسبزی اور آب و ہوا نے ضرور اپنا رنگ دکھایا ہوگا۔ ویسے اب حالات پہلے سے بہت اچھے ہیں۔ دوسروں کی طرح ان کے رہن سہن میں بھی کافی تبدیلی آ گئی ہوگی۔ اوپر سے اس علاقے کی گورنری نے بھی ان میں کچھ تبدیلی پیدا کر دی ہوگی۔ اب اس سفر میں ضرور ان کے حالات کا جائزہ لوں گا۔اپنے سفر کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد یہی سوچ ان کو اپنے دوست کے سامنے یہ خواہش رکھنے پر مجبور کر گئی:”آج میں اپنے بھائی کا گھر دیکھنا چاہوں گا۔””اے امیرالمومنین! آپ میرا گھر دیکھ کر کیا کریں گے؟ وہاں آپ کو آنکھیں نچوڑنے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔”چہرے پر فکر کے آثار نمایاں تھے، کیونکہ وہ گھر امیرالمومنین کے لائق نہیں تھا۔ انہوں نے امیرالمومنین کو بہت کوشش کی کہ وہاں نہ جائیں، مگر جواب آیا:”نہیں! نہیں! آج میں اپنے بھائی کا گھر ضرور دیکھوں گا۔”امیرالمومنین نے دوٹوک الفاظ میں کہا۔”چلیں پھر!” انہوں نے ہار مانتے ہوئے کہا۔یہ لوگ چلنے لگے… اور چلتے ہی گئے…”کہاں ہے تمہارا گھر؟” امیرالمومنین نے اس وقت پوچھا جب شہر کی رونقیں نظر آنے لگیں۔”اے امیرالمومنین! آپ آگے چلیں۔” انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے آگے بڑھنے کو کہا۔”ابھی تک تمہارا گھر نہیں آیا۔” امیرالمومنین نے کہا، جب وہ شہر کے اس حصے سے گزر رہے تھے جس کی رونقیں آب و تاب سے تھیں اور جسے شہر کا دل کہا جاتا تھا۔”اور آگے چلیں، امیرالمومنین! آگے ہے۔” انہوں نے قدرے عاجزی سے کہا۔”ابھی تک تمہارا گھر نہیں آیا، اب تو شہر کی حدود ختم ہونے کے قریب ہیں۔” امیرالمومنین نے فکرمندی سے دوبارہ پوچھا۔”بس آپ آگے چلیں، اب ہم بالکل قریب ہیں۔” انہوں نے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار لاتے ہوئے کہا۔”وہ رہا میرا گھر۔” انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔اب تو وہ لوگ شہر کی حدود سے بھی نکل چکے تھے اور جنگل میں تھے۔”کون سا گھر؟” امیرالمومنین نے گردن اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔”جی، امیرالمومنین! وہ گھر جو چھپر نما بنا ہوا ہے۔” انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”میں اندر جانا چاہتا ہوں۔” امیرالمومنین آگے بڑھتے ہوئے بولے۔”نہیں، امیرالمومنین! وہ آپ کے لائق نہیں ہے۔” انہوں نے نہایت ادب سے منع کیا۔جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو اندر کی ویرانی دیکھ کر امیرالمومنین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ایک سادہ سا کمرہ تھا، جس کی ہر چیز سے ویرانی ٹپک رہی تھی۔ اس میں ایک جائے نماز رکھی ہوئی تھی اور دیوار پر ایک طاقچہ تھا جس پر ایک پرانا سا پردہ لٹکا ہوا تھا۔”واقعی اے ابو عبیدہ! تم جیسے حضور ﷺ کے دور میں تھے، آج بھی ویسے ہی ہو۔ آج بڑے بڑوں کی زندگی کو اس سرسبزی اور راحت نے بدل دیا، لیکن تم وہی ہو۔”یہ کہتے ہوئے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور وہ روتے ہوئے بولے۔”تم کھانا کہاں سے کھاتے ہو؟” امیرالمومنین نے فکرمندی سے پوچھا۔”امیرالمومنین! یہاں قریب ایک بیوہ عورت رہتی ہے۔ ان سے روٹیاں بنوا لیتا ہوں، اور جب وہ سوکھ جاتی ہیں تو پانی میں بھگو کر رکھ لیتا ہوں۔ جب بھوک لگتی ہے تو نمک چھڑک کر کھا لیتا ہوں۔” حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے نہایت ادب اور عاجزی سے وضاحت کی۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہچکیاں بندھ گئیں اور وہ رونے لگے۔”اے امیرالمومنین! میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ یہ گھر دیکھ کر آنکھیں نچوڑنے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے۔” عظیم صوبۂ شام کے گورنر، ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے نہایت عاجزی اور شرمندگی سے کہا، کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ گھر ساڑھے باون مربع میل پر حکومت کرنے والے کے لائق نہیں ہے—جو اپنی سادگی کی وجہ سے ان سے کہیں زیادہ مشہور و معروف ہے۔