(تیسرا منظر – ٹوٹتی ہوئی ڈھال)
شہر کے قدیم حصے، جو انگریزوں کے دور کی یاد دلاتے تھے، کی ایک پرسکون گلی میں واقع "بیتِ علم” نامی چھوٹا سا مکان اپنی بوسیدہ دیواروں کے باوجود ایک عجیب سا وقار رکھتا تھا۔ یہاں کی فضا میں پرانی کتابوں کے کاغذوں کی خوشبو اور صندل کی اگر بتی کا دھواں رچا بسا تھا۔ پروفیسر عبد الرحمان، جن کی سفید داڑھی ان کے چہرے پر ایک نورانی جھلک پیدا کرتی تھی، اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔سامنے میز پر ان کے بیٹے "احمد” کے ایوارڈ اور شیلڈ سجے ہوئے تھے، جو گزشتہ دو دن سے ہسپتال کے آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔”عبد الرحمان صاحب! چائے لے لیجیے۔”ان کی اہلیہ، زبیدہ بیگم، نے تھکے ہوئے مگر پُروقار لہجے میں کہا۔ ان کی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں۔پروفیسر نے تسبیح روکی اور ایک لمبی آہ بھری۔”زبیدہ! ڈاکٹروں نے کیا کہا ہے؟”زبیدہ بیگم کی آواز بھرّا گئی۔”ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کے لیے دس لاکھ روپے کا بندوبست فوراً کرنا ہوگا، ورنہ خون کا بہاؤ دماغ تک پہنچ جائے گا۔ عبد الرحمان صاحب! اتنے پیسے آئیں تو کہاں سے آئیں؟ آپ کی ساری زندگی کی جمع پونجی تو احمد کی تعلیم اور اس گھر کی مرمت میں لگ گئی۔”پروفیسر عبد الرحمان کی نظریں سامنے دیوار پر لگی اپنی بے شمار اعزازی شیلڈز اور اسناد کی طرف جم گئیں۔ یہ وہ کاغذ کے ٹکڑے تھے جو معاشرے نے انہیں ان کی "شرافت” اور "علم دوستی” کے بدلے دیے تھے۔ لیکن آج یہ سب مل کر بھی ان کے بیٹے کی سانس کی قیمت ادا نہیں کر سکتے تھے۔”میرے کچھ پرانے شاگرد ہیں، ان کو فون کیا ہے زبیدہ۔”پروفیسر نے دھیمی آواز میں کہا۔”وہ سب اب بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ یقیناً وہ اپنے استاد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔”اسی دوران ان کا پرانا نوکیا فون بجنے لگا۔ پروفیسر نے امید بھری نظروں سے نمبر دیکھا اور فون اٹھایا۔”ہیلو! جی ناصر بیٹا؟”دوسری طرف سے آواز آئی،”سر! میں معذرت چاہتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ اس وقت آپ کے کام نہ آ سکا۔ بزنس کے حالات آپ کے سامنے ہیں اور میرے ہاتھ بھی تنگ ہیں۔ ابھی حال ہی میں میں نے نئے بزنس میں بہت سرمایہ کاری کر دی ہے۔”پروفیسر کا چہرہ اتر گیا۔”کوئی بات نہیں بیٹا، خوش رہو۔”اگلی پانچ کالز کا جواب بھی تقریباً یہی تھا۔ کسی کے پاس وقت نہیں تھا، کسی کے پاس پیسے نہیں تھے، اور کسی نے تو فون اٹھانا بھی گوارا نہ کیا۔ وہ معاشرہ جس کی بنیادیں پروفیسر عبد الرحمان جیسے لوگوں نے اخلاقیات پر رکھی تھیں، اب مفاد پرستی اور خود غرضی کے خول میں بند ہو چکا تھا۔پروفیسر نے فون میز پر رکھ دیا۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔کانپتی آواز میں بولے،”زبیدہ! کیا علم اور شرافت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی؟ کیا اس شہر میں صرف وہی زندہ رہے گا جس کے پاس دولت ہے؟ کیا صرف وہی لوگ زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں جو اثر و رسوخ رکھتے ہوں یا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں؟”اسی وقت ان کے فون پر ایک گمنام نمبر سے میسج آیا۔میسج:”پروفیسر عبد الرحمان! اگر آپ اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہیں تو آج رات بارہ بجے اس لنک پر کلک کریں اور وہ کریں جو آپ کو کہا جائے۔ ہم آج رات آپ کی شرافت کی قیمت طے کریں گے۔”پروفیسر نے میسج پڑھا اور ان کا دل ڈوبنے لگا۔ ان کی بے بسی پر آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ "بے راہ رو” نسل اب ان کے گھر کی دہلیز تک پہنچ چکی تھی۔ ایان اور حارث جیسے شکاریوں نے اپنا اگلا شکار چن لیا تھا۔اندھیرا گہرا ہو رہا تھا، اور پروفیسر عبد الرحمان کو محسوس ہوا کہ ان کے برسوں کے اصولوں کی دیواریں تھرتھرا رہی ہیں۔ کیا ایک باپ کی ممتا ایک استاد کے وقار پر غالب آ جائے گی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسر عبد الرحمان کو میسج بھیج کر، سگریٹ کا کش لیتے ہوئے ایان کے چہرے پر ایک بھیانک مسکراہٹ تھی۔ اس کے سامنے ایک بڑی اسکرین روشن تھی۔ دھویں کے مرغولے فضا میں پھیلتے گئے، اور اس کے دماغ میں ماضی کے دھندلے سائے ابھرنے لگے۔ پھر ایک سایہ رقص کرتا ہوا واضح ہونے لگا۔نویں جماعت کی کلاس تھی۔ دوپہر کی دھوپ کھڑکی کے شیشوں سے اندر آ رہی تھی اور بلیک بورڈ پر ریاضی کے سوال یوں پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی نے الجھن کو چاک سے لکھ دیا ہو۔ ریاضی کی تیاری چل رہی تھی، اور کلاس میں امتحان سے پہلے والی بے چینی رچی ہوئی تھی۔ریاضی کا استاد چند منٹ کے لیے کلاس سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایان اپنی کرسی پر ذرا پیچھے ہو گیا۔وہ اُس وقت بھی مختلف تھا۔ صاف ستھری یونیفارم، مہنگی گھڑی، اور آنکھوں میں وہ غرور جو عمر سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ وہ اپنے گروپ کی طرف جھکا اور دھیمی مگر طنزیہ آواز میں بولا:”چھوڑو… یہ تیاری وِیاری فضول ہے۔ ذرا بتاؤ، پرسوں پہلا پیپر کون سا ہے؟ اگر میں پرسوں کا پیپر تم سب کے سامنے لا دوں تو مان جاؤ گے کہ عقل کتابوں میں نہیں ہوتی؟”دو تین لڑکے دبی دبی ہنسی ہنسے۔ ایک نے سرگوشی کی،”یار، اگر واقعی آ گیا تو مزہ آ جائے گا۔”ایان نے جیب سے موبائل نکالا—نیا، چمکتا ہوا—اور میز پر رکھتے ہوئے بولا:”میرے باپ کے لیے یہ اسکول کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ سب پیسوں کا کھیل ہے۔”اسی لمحے دروازہ کھلا۔مگر واپس آنے والا ریاضی کا استاد نہیں تھا۔ دروازے میں پروفیسر رحمان کھڑے تھے۔ سادہ لباس، ہاتھ میں چند رجسٹر، اور آنکھوں میں ایسی سنجیدگی جو بنا چیخے ڈانٹ بن جاتی ہے۔ ان کی نظر سیدھی میز پر رکھے موبائل پر گئی، پھر آہستہ سے ایان کے چہرے پر ٹھہر گئی۔ کلاس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔”ایان…”پروفیسر رحمان کی آواز نرم تھی، مگر وزن دار۔”تم کہہ رہے تھے کہ پیپر لا سکتے ہو؟”ایان نے خود کو سنبھالا۔”جی سر… اگر ضرورت پڑی تو۔”پروفیسر رحمان نے مسکرانے کے بجائے کہا:”علم چرایا جا سکتا ہے، مگر عقل نہیں۔ اور جو بچہ شارٹ کٹ پر فخر کرے، وہ ایک دن سچ کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے۔”ایان کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔”سر! آپ کو کیا مسئلہ ہے مجھ سے؟ میرا رزلٹ ہمیشہ ٹاپ رہا ہے!”پروفیسر رحمان نے پوری کلاس پر ایک نظر ڈالی اور سوچنے لگے کہ پچھلے سال کا رزلٹ رات کے آخری حصے میں کیسے رد و بدل کر دیا گیا تھا۔ ایان پہلی پوزیشن کا مستحق نہ ہونے کے باوجود اول قرار پایا، اور اس جھوٹی خوشی میں ایک بڑی پارٹی بھی دی گئی تھی۔ پیسوں کے لالچ میں ایک پرانے پیون نے یہ کام کر دکھایا تھا اور کوئی ثبوت بھی نہیں چھوڑا تھا۔ ورنہ پچھلے سال ہی ایان کو نکال دیا جاتا۔اسی لمحے پروفیسر عبد الرحمان آہستہ بولے:”رزلٹ نمبر دکھاتا ہے، کردار نہیں۔ اور مجھے تمہارے نمبروں سے نہیں، تمہارے غرور سے مسئلہ ہے۔”یہ وہ لمحہ تھا جب کلاس نے پہلی بار ایان کو نیچا ہوتے دیکھا۔اسی دن معاملہ اسکول انتظامیہ تک پہنچا۔ موبائل ضبط ہوا۔ چند پیغامات دیکھے گئے—اتنے کہ شک یقین میں بدل گیا، مگر اتنے نہیں کہ بات اسکول سے باہر جائے۔پرنسپل کے دفتر میں خاموشی تھی۔ایان کے والد نے سخت لہجے میں کہا:”لڑکا ہے، غلطی ہو جاتی ہے۔”پروفیسر رحمان نے صرف اتنا کہا:”غلطی وہ ہوتی ہے جس پر شرمندگی ہو۔ یہاں فخر ہے۔”انتظامیہ کے سامنے جب رپورٹ آئی تو پروفیسر رحمان کا فیصلہ سادہ مگر کاری تھا۔ وہ اصولوں کے پکے تھے۔ کبھی کسی پر ظلم نہ کیا اور نہ ہی کسی کو ظلم کرنے دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایان جیسے تخریبی ذہانت رکھنے والے بچے دوسرے بچوں کے ذہن پر برا اثر ڈال سکتے ہیں، اور شاید اس اسکول سے نکل کر ایان کا ذہن ایسے منصوبوں سے پاک ہو جائے۔فیصلہ یہی ہوا کہ ایان کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی خبر—بس ایک بند دروازہ۔جب ایان دفتر سے باہر نکلا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پروفیسر رحمان وہیں کھڑے تھے—خاموش، اکیلے، مگر اپنے اصولوں پر قائم۔اسی لمحے ایان کے اندر کچھ بجھا نہیں… کچھ جل اٹھا۔ وہ اس کے غرور کی آگ تھی جس نے سوچنے کی صلاحیت کو بھسم کر دیا تھا۔ اسی لمحے اس کے دماغ میں ایک شیطانی خیال ابھرا:”آپ نے مجھے صرف اسکول سے نہیں نکالا… آپ نے مجھے یہ سکھا دیا کہ اصول توڑنے کے لیے انہیں سب کے سامنے نیچا کرنا پڑتا ہے۔”””ایان! کہاں کھوئے ہو؟”حارث کی پکار پر وہ ماضی کے سائے سے نکل کر حال کے دربار میں آ گیا۔”منصوبہ مکمل ہے۔ بس زویا کے آنے کی دیر ہے۔”ایان کی آنکھوں میں اب بھی وہی آگ تھی جو نویں جماعت میں بھڑکی تھی—فرق صرف اتنا تھا کہ اُس وقت وہ ضد تھی، اور اب وہ انتقام بن چکی تھی۔