رات کے اس پہر، جب خاموشی کائنات کو اپنی شکنجے میں لے لیتی ہے اور اکثر لوگ نیند کی وادی میں گم ہوجاتے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ عجیب سی بے حسی بھی جاگ جاتی ہے۔ لاکھوں نوجوان اس قیمتی وقت کو، جو ہیرے سے بھی زیادہ گراں قدر ہے، فیس بک کی ریلز اور ٹک ٹوک کے لامتناہی وڈیوز کو بے دردی سے اپنےہاتھ کی انگلیوں سے اسکرول کررہے ہوتے ہیں۔ ایک بے مقصد حرکت جو نہ روح کو سکون دیتی ہے اور نہ ذہن کو روشنی۔ نہ کسی قسم کی صلاحیت میں اٖضافہ اور نہ ہی کسی قسم کافائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اسی خاموش سرد رات میں، کراچی کے ایک گوشے میں سندھ کی شہزادی، مہروس کی نظریں اسمارٹ فون کی اسکرین پر تو تھیں، مگر وہ کچھ ڈھونڈ نہیں رہی تھی بلکہ کچھ تخلیق کر رہی تھی۔وہ اپنے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔ اس کی سوچ صرف ایک بات میں منجمد تھی :
"ہماری سندھی زبان، جو ہزاروں سال پرانی ہے، جو میرے نانا کی کہانیوں میں گونجتی تھی… آج ڈیجیٹل دنیا میں بے بس ہے؟ حساب کتاب کے لیے بھی انگریزی کے بٹن؟ نہیں! یہ ظلم ہے!”
وہ سوچ رہی تھی: "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اس نے اے آئی کا ٹول کھولا ہواہے— وہ ٹول جو دنیا کے بڑے بڑے انجینئرز استعمال کرتے ہیں۔
اس نے ٹائپ کیا: "مجھے سندھی میں کیلکولیٹر بنانا ہے۔ ابھی۔ فوراً!”
AI نے جواب دیا… اور مھروس کی آنکھوں میں ایک چمک جگمگانے لگی۔ یہ چمک نہیں تھی — یہ امید کی آگ تھی!
پہلا دن: جنگ شروع
کوڈ کی لکیریں لکھتی رہی۔ سندھی فونٹس تلاش کیے — جو انٹرنیٹ پر بکھرے پڑے تھے۔ غلطیاں آئیں، اسکرین سرخ ہو گئی۔ ایرر! ایرر! ایرر!
اس کے قدم ڈگمگانے لگے وہ رو پڑی۔ "میں کیوں نہیں کر پا رہی؟” مگر کسی کونے میں امید کی شمع جل رہی تھی ،پھر اٹھ کر بولی: "نہیں! یہ میری زبان اور میر ی سرزمین کی لڑائی ہے!”
رات بھر جاگتی رہی۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی، آنکھیں جل رہی تھیں، مگر ہاتھ نہیں رکے۔
دوسرا دن: طوفان
اس کی محنت نے رنگ دکھایا اور آج بٹن زندہ ہو رہے تھے! "جمع” کی جگہ سندھی کا خوبصورت لفظ چمکا۔ "تفریق”، "ضرب”، "تقسیم” — سب سندھی میں!
سائنسی فنکشنز بھی شامل ہوئے: sin نہیں، سندھی میں "سین”۔ log نہیں، سندھی کا لفظ!
خوشی سے وہ چیخی: "یہ ہو رہا ہے! میری زبان سانس لے رہی ہے!”
تیسرا دن: انقلاب
آج کا وہ دن تھا جب اس نے آخری لائن کوڈ لکھی۔ دل کی دھڑکن جیسے رک گئی ہوں۔ آنکھوں میں یقینی اور بے یقینی کی کیفیت جاگ گئی ۔ لیکن ہمت نہ ہارتے ہوئے "Enter” دبایا۔
اسکرین پر: ۷ + ۵ = ۱۲ — سندھی میں!
وہ چیخ اٹھی، آنسو بہہ نکلے۔ کمرہ لرز اٹھا جیسے سندھ کی سرزمین نے تالیاں بجائی ہوں۔
یہ صرف ایک کیلکولیٹر نہیں تھا — یہ سندھ کی روح تھی جو ڈیجیٹل دنیا میں جاگ اٹھی تھی!
اور پھر… دنیا ہل گئی! مختلف ٹی وی چینلز نے اس کو خراج تحسین پیش کیے۔ اس عظیم کارنامےکو اجاگر کر نے کے لیے UNDP نے ویڈیو شیئر کی، لاکھوں ویوز! وزیر صاحب نے لیپ ٹاپ تھمایا، ٹی وی کیمرے اس کے سامنے آ گئے۔
Dawn، Express، Awaz TV — سب چیخ رہے تھے:
"16 سالہ لڑکی نے AI سے معجزہ کر دیا!پاکستان کی پہلی سندھی کیلکولیٹر — دنیا کی پہلی!”
مھروس کی طرف سے یہ پیغام عام کرنے لگے:
"جہاں دنیا انگلیاں گھما کر وقت ضائع کر رہی تھی،اس نے اندھیرے کو اپنی سستی کا بہانہ نہیں بنایا، بلکہ اسے اپنی یکسوئی کو ہتھیار بنایا۔ جب آپ ریلز دیکھ کر کسی اور کی کامیابی یا تفریح کا حصہ بن رہے ہوتے ہیں، تو مہروس جیسے چند باہمت طالب علم اپنی کامیابی کی کہانی خود لکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے سامنے محض ایک اسکرین نہیں تھی، بلکہ ایک مقصد تھا: "اپنی مٹی اور اپنی زبان ، اپنی سرزمین کے لیے کچھ کر دکھانا۔”
سب سے بڑھ کر مھروس آج بھی کہتی ہے، آواز میں لرزش کے ساتھ:
"میں نے سوچا تھا میں اکیلی ہوں۔ مگر جب میں نے شروع کیا، تو پوری سندھ میرے ساتھ کھڑی ہو گئی۔اگر تم بھی محسوس کر رہے ہو کہ تمہاری زبان، تمہارا خواب، تمہاری صلاحیت — سب دب رہی ہے… تو اٹھو!
رات کے اس پہر جب کائنات پہ سیاہ چادر چھائی ہو اس میں چمکتے ستارہ بن کر کمپیوٹر کھولو۔ اے آئی ٹول سے پوچھو۔اور لڑو!کیونکہ اگلا انقلاب… تمہارے ہاتھ میں ہے!”
اے اپنے ملک ،اپنے خاندان، اپنی قوم اور اپنی سرزمین کے لیے کچھ کرنے والے طلبہ وطالبات!
یہ محروس کی کہانی نہیں — یہ تمہاری کہانی کا آغاز ہے! اب چیخو: "ہم کر سکتے ہیں!”اور دیکھو، کیسے دنیا تمہارے قدموں میں آ جھکتی ہے!
اے آئی ٹیکنالوجی سے بھرپور۔ فائدہ اٹھانے والی یہ باہمت مھروس کی یہ کہانی پیغام دے رہی ہے:
"اے ستاروں پہ کمند لگانے والے نوجوانو! سوشل میڈیا کے اندھیرے کنویں سے نکل کر آئیڈیاز کی کہکشاں میں قدم رکھیں۔ رات کا یہ پہر تم سے بھی سوال کر رہا ہے۔ کیا تم اسکرول کرنے والوں کی بھیڑ کا حصہ بنو گے، یا مہروس کی طرح ٹیکنالوجی کے افق پر ستارہ بن کر چمکو گے؟ یاد رکھو، جو راتوں کو جاگ کر "تخلیق” کا عمل کرتے ہیں، تاریخ انہی کے لیے صبح کا اجالا بن کر مسکراتی ہے۔
آج جب ہم مہروس کے سندھی اے آئی کیلکولیٹر کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں راتوں کا حاصل ہے جو اس نے لایعنی ویڈیوز دیکھنے کے بجائے کچھ نیا سیکھنے میں صرف کیں۔
سندھی کیلکیولیٹر لنک:
https://sindhicalculator.com/
حوالہ:
ڈان اخبار 19 اپریل 2025
ڈی نیشن 23 فروری 2025
اے پی پی 4 اپریل 2025